86

پاکستانی کرکٹرز کیلئے کائونٹی کھیلنا سودمند یا نقصان دہ؟

Share it

اختر علی خان
دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اور جادوگر لیگ سپنر عبدالقادر سے ایک بار کسی نے پوچھا تھا کہ آپ کو کائونٹی کرکٹ کھیلنے کی اتنی زیادہ پیشکش ہوتی ہے تو آپ کائونٹی کرکٹ کیوں نہیں کھیلتے، جواب میں عبدالقادر نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا ہنر دوسروں لوگوں کے ہاتھ لگ جائے، یہ ہنر میرے پاس قوم کی امانت ہے، بہرحال یہ عبدالقادر مرحوم کی ذاتی رائے تھی مگر ان کے سوائے پاکستان کرکٹ ٹیم کے تقریباً ہر شہرہ آفاق کرکٹر نے کائونٹی کرکٹ میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنی لاجواب کارکردگی سے کائونٹی کرکٹ میں نت نئے ریکارڈ بھی بنائے، اس وقت بھی اگر آپ دیکھیں تو رواں سیزن میں شاہین شاہین شاہ آفریدی،حارث رئوف، شان مسعود، محمد عباس، اظہر علی، شاداب خان وغیرہ کائونٹی کرکٹ میں مصروف ہیں، ان سب سے نمایاں شان مسعود ہیں جنہوں نے کائونٹی کرکٹ میں اب تک کھیلے گئے صرف دو میچوں میں وہ کارہائے نمایاں انجام دے دیئے ہیں جو ایک مدت تک یاد رکھا جائے گا، شان مسعود جو اس وقت ڈرہم کائونٹی کھیل رہے ہیں نے اپنے پہلے ہی میچ میں ڈبل سنچری سکور کر ڈالی جبکہ دوسرے میچ میں انہوں نے اپنی شاندار بیٹنگ فارم کو جاری رکھتے ہوئے بھی ڈبل سنچری سکور کرتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی بلے باز بھی بن گئے، اسی طرح فاسٹ بائولر حسن علی ہیں جو گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی ناقص فارم کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں تھے نے بھی کائونٹی کرکٹ میں آتے ہی دھوم مچا دی تھی حسن علی جو اس وقت لنکا شائر کی جانب سے کھیل رہے ہیں نے یکے بعد دیگر پانچ چھ وکٹیں لیکر اپنے فارم میں آنے کا ثبوت بھی دیا اور اپنی ٹیم کو بھی کامیابی سے ہمکنار کیا، اسی طرح شاہین شاہ آفریدی اور حارث رئوف کی کارکردگی بھی شاندار رہی ہے جبکہ فاسٹ بائولر محمد عامر جو ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے تھے نے بھی صرف تین میچوں کیلئے انگلش کائونٹی گلوسٹر شائر کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ان تین میچوں میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائینگے کہ ان میں ابھی کرکٹ باقی ہے اور انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم میں موقع دیا جائے، جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کرکٹرز کائونٹی کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے داد سمیٹ رہے ہیں وہاں پر ہی ان کرکٹرز پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا ری اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کائونٹی کرکٹ کھیلنے سے ان کرکٹرز کو مستقبل میں فٹنس مسائل درپیش آسکتے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے شاہین شاہ آفریدی کے کائونٹی کرکٹ کھیلنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہین آفریدی پاکستان کرکٹ ٹیم کے اہم ترین بائولر ہیں اور پاکستان کرکٹ ٹیم نے مستقبل میں بہت ساری کرکٹ کھیلنی ہے اگر خدانحواستہ شاہین شاہ آفریدی کائونٹی کرکٹ مسلسل کھیلنے سے فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے تو ایک جانب اس کرکٹر کو مستقبل میں مشکلات پیش آئیں گی اور ساتھ ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے اس کی کمی کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار حسن علی کے بارے میں کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حسن علی کی کارکردگی کچھ عرصہ قبل تک انتہائی ناقص تھی اور انگلینڈ کی جاندار وکٹوں پر وکٹیں اڑانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فارم میں آگئے ہیں بلکہ وہاں کی کنڈیشنز ان کے حق میں ہیں یہ جیسے ہی ان کنڈیشنز سے باہر آئیں گے ان کی کارکردگی اور فٹنس پھر سے متاثر ہو جائیگی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز شان مسعود کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ بلاشبہ انہوں نے کائونٹی کرکٹ میں دو مسلسل ڈبل سنچریاں سکور کی ہیں اور ایسا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا اس کارکردگی کے تسلسل کو وہ جاری رکھیں سکیں گے دوسرا دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کی خوبیوں اور خامیوں سے مخالف ٹیموں کے بائولرز جب واقف ہو جائینگے تو کیا وہ یہ شاندار کارکردگی جاری رکھ سکیں گے، بہرحال پاکستان کرکٹ ٹیم کے جو بھی کرکٹرز کائونٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں ان کے بارے میں مثبت اور منفی رائے دونوں چل رہی ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کرکٹرز کو کھیلنے کے مواقع میسر آرہے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے تجربہ میں اضافہ ہو رہا ہے جو مستقبل میں ان کے کام آئیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں