3,993

مزدور کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار اور پنشن پندرہ ہزارروپے مقرر کی جائے۔ شمس الرحمن سواتی

Share it

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے یکم مئی مزدور ڈے کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار اور پنشن پندرہ ہزارروپے مقرر کی جائے اس وقت تنخواہوں میں تفاوت ایک اور سو سے زیادہ ہے اسے کم کرکے ایک اور چھ کیا جائے، تمام مزدوروں کو سوشل سیکورٹی لازمی فراہم کی جائے تاکہ تعلیم اور علاج سے کوئی مزدور محروم نہ ہو، وزیراعظم مدینہ کی اسلامی ریاست اپنے نعرے پر عمل کریں ، انھوں نے کہا ہیومن رائٹس واچ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں غیر روایتی سیکٹر (انفارمل سیکٹر) میں مزدوروں کے لیئے رجسٹرریشن کا سرے سے کوئی نظام ہی نہیں ہے ، خود وزیراعظم عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس وقت ملک میں80 فیصد مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں،اس لیے ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ اس 80فیصد مزدور کو بھی رجسٹرڈ کیا جا ئے، انھوں نے کہا ، ٹھیکیداری اور یومیہ اجرت کے نظام کو اس لیئے اپنایا گیا تاکہ ان پر لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے قوانین کا اطلاق نہ ہو،لیبر قوانین کا اطلاق صرف 35/36 لاکھ پر ہے، اور سماجی تحفظ کے قوانین کا اطلاق بیس بائیس لاکھ پر ہے۔انھوں نے کہا مدینہ کی اسلامی ریاست میں وقت کے حکمران کی تنخواہ مزدور کے برابر ہوتی تھی، مدینہ کی ریاست کے حکمران کا اعلان تھا کہ دجلہ اور فرات کے کنارے کتا بھوکا مرجائے تو زمہ دار حکمران ہوگا، شمس الر حمن سواتی نے کہا، اس وقت ملک میں تقریباََ ایک کروڑ سے زائد لیبر رجسٹر نہیں ہے، اس کی ذمہ داری حکومتی محکمہ جات پر عائد ہوتی ہے،کارخانوں سے ٹھیکیداری اور یومیہ اجرت کے نظام کو ختم کیا جائے اوران کو مستقل ملازمتیں دی جائیں،غیر روایتی سیکٹر میں کھیت مزدور، منڈی، بازار، تعمیرات، کانوں میں کام کرنے والے کان کن، فشریز، بھٹہ، گھروں، ہوٹلوں، دوکانوں پر کام کرنے والے، رکشہ ٹیکسی ڈرائیور، چھابہ فروش شامل ہیں پہلے ان کی رجسٹرریشن کی جائے اور پھر لیبر قوانین اور سماجی قوانین کا دائرہ ان تک بڑھایا جاءجبکہ لیبر قوانین کی خامیاں دور کی جائیں، انہیں موثر بنایا جاہے، لیبر قوانین اور سماجی تحفظ قوانین پر عمل درآمد کرنے والی کرپٹ مشینری کی مکمل طور پر تبدیل کرنیکی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں