177

خواتین اور معاشی خود انحصاری

Share it

خواتین اور معاشی خود انحصاری

خواتین بلاشبہ ہر معاشرے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اپنے فطری کرداروں جیسے ماں، بیٹی ، بہن ےا شریک حےات کے طور پر ان کا مقا م قابل احترام تو ہے ہی؛ لیکن عہدحاضر کی عورت اپنی ذات میںبھی مکمل ہے۔ تو چاہے بات ذہانت ، بہادری، خود اعتما دی ، پیشہ وارانہ قابلیت ےا تکنیکی مہارتوں کی ہو دنےا بھر کی عورتیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کو کڑا مقابلہ دیتی نظر آتی ہیں ۔

پچھلے کچھ وقت میں عورت نے اپنی شخصی صلاحےتوں کو پہچاننے اور تراشنے پر توجہ دی ، خود کو صرف چولہے چوکے کی نظر نا کرتے ہوئے اپنی ذات پر کام کیا اور معاشرے کی اثر انگےزکارکن بن کر ابھری۔طب ، سائنس، انجینئیرنگ، تعلیم، فنون لطیفہ، دفاع، سےاست، اقتصادیات،ادب، ذرائع ابلاغ ، آئی ٹی ، شوبز،تاریخ، جغرافیہ ہو ےا بزنس ہر شعبہ میں خواتےن کی نمائندگی قابل ذکر اور نماےاں ہے ۔ ےہ یقینا اےک خوش آئند امر ہے

لیکن ےہ تصویر کا اےک محض اےک رُخ ہے ؛تیسری دنےا کی عورت کے لیے حالات میں آج بھی کوئی خاص مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی پسماندگی اور حالت ز ار کا کو ئی پرسان حال نہیں اور وہ اب تک اپنی بقا اور بنےادی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ تعلیم تو دور اس کوصحت جیسی بنےادی سہولت بھی میسر نہیں ۔ لہذا جس عورت کو ہر چڑھتے سورج کے ساتھ زندگی کی نئی آزمائش پر کھرا اترنے کی فکر لاحق ہو وہ خود اعتمادی او ر خودانحصاری جیسے لفظوں سے نا بلد ہی رہتی ہے ۔ غربت و افلاس، ناقص صحت عامہ ،افراط ز راور بے روزگاری جیسے مسائل کی موجودگی میں شخصی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور انسانی صفات کو بلاتفریق جنس ز نگ لگ جاتا ہے ۔

پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 49.56% ہیں ، اور کم ا زکم شہروںمیں خواتین کے معاشی و سماجی حالات بہت حد تک حوصلہ افزا ہیں ؛ پاکستانی خواتےن تعلیم ےافتہ ہونے کے ساتھ بہترین پیشہ وارانہ صلاحےتوں کی مالک بھی ہیں ۔ پاکستانی خواتین کا اےک بڑا حصہ سرکاری اور نجی شعبوں میں اپنا پیشہ وارانہ کردار بطریق احسن ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ےہ کہنا غلط نا ہو گا کہ اب تقریبا تمام تر شعبے جنسی تعصب سے پاک ہو چکے ہیں اور خواتےن ملک اور معاشرے کی خدمت میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں جس سے ان خواتےن کے لیے شخصی ترقی کے ساتھ معاشی خود انحصاری کی راہیں بھی ہموار ہوئی ہیں ۔ جب کہ گلاس سیلنگ ایفیکٹس جیسے حقائق یقینا ہر جگہ موجود رہتے ہیں ا ور وہ بالکل الگ عنوان ہے ۔
اس کے بر عکس دیہی علاقوں میں بسنے والی پاکستانی عورت کے لیے شخصی ترقی کے مواقع اس قدر روشن نہیں ؛ ان خواتےن میں اکثریت زراعت سے منسلک ہوتی ہیں جس میں ان کا معاشی استحصال کیا جاتا ہے ےا مضافاتی علاقوں میں انڈسٹریل ایریا کی فیکٹریوں میں مزدوری کرتی ہیں باقی ماندہ خواتین دستکاری ،سلائی ےا مویشی وغیرہ پال کراپنے خاندان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کو کوشش میں لگی رہتی ہیں ۔ تعلیم او روزگار کے کم اور محدود مواقع اےک بہت بڑی وجہ ہے کہ پاکستانی دیہی خواتےن اب تک اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کا رنہیں لا سکیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے گزشتہ حکومتیں اپنے تئیں اقدامات تو لیتی رہیں مگر وہ تمام اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ۔

پوری دنےا میں اب غےر رواےتی طرز معاش اپنائے جا رہے ہیں ، انفارمیشن ٹےکنالوجی کے اس دور میں ڈیجیٹل لٹریسی کا تمام لوگوں تک پہنچنا ناگزیر ہے ۔ غیر روایتی طرز معاش میں فری لانسنگ سب سے مقبول ہے لوگ گھر بیٹھے ہوئے اپنا ہنر، خدمات ، مصنوعات فری لانسنگ کے ذریعے باآسانی دنےا کے اےک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا کر آمدن بڑھا رہے ہیں ۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی بدولت اپنی مصنوعات کی بہت تشہیر کرتے ہوئے زےادہ سے زےا دہ صارفین تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔ پاکستانی فی لانسرز دنےا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی ایجنسی payoneer کی حالیہ رپورٹ کے مطابق فری لانسنگ میں چوتھے نمبر پر ہے ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ اس آنے والے وقتوں میں اس رینکنگ میں بہتری آنے کے ساتھ ہمارے دیہی علاقوں کے باسیوں کی شمولیت بھی ممکن ہو سکے

لہذا ہمیں اپنے دیہی علاقوں کے معاشی ڈھانچے کو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق از سر نو تشکیل دینا ہوگا تاکہ باالعموم سب او ر باالخصوص خواتےن کے لیے معاشی خود مختاری کا حصول آسان ہو سکے ۔ اس کے لیے تعلیم اور روزگار کے ذےادہ مواقع فراہم کرنے کے ساتھ سکل ڈویلپمنٹ او رکپیسیٹی بلڈنگ پر بھی خاص توجہ دینا ہوگی ۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا آن لائن پروگرام ڈیجی سکلز سود مند ثابت ہو سکتا ہے ۔ digiskills.pkبذریعہ اگنائٹ وزارت انفارمیشن ٹےکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونییشن
کا پراجیکٹ سے جس کے تحت تما م افراد خصوصا نوجوانوں اور خواتےن کو ہنر مند بنانے کے لیے ترتےب دیا گیا ہے جس کا ہدف ہے کہ دو سالوں میں 10لاکھ ٹریننگزد ی جائیں ۔ digiskills.pk فری آن لائن پروگرام ہے جس میں مختلف شعبوں کے بہترین اساتذہ 10 کور سز پر تربیت دیتے ہیں اور کورس مکمل ہونے پر سرکاری سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے ان سکلز کی بدولت تربیت پانے والے فری لانسنگ کے ذریعے اپنی آمدن میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ ےہ پروگرام دیہی اور شہری دونوں خواتےن کی معاشی خود مختاری میں مثبت کردا ادا کر سکتا ہے ، اس طرح کے مزید پروگرامز وقت کی اہم ضرورت ہیں
ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں