1,885

سپر نووا سکول نے ورلڈ سکالر کپ میں233 میڈلز بشمول100 سے زائد گولڈ میڈلز جیت لیے

Share it

اسلام آباد(میڈیا ویزنیوزرپورٹ)سپر نووا سکول نے ورلڈ سکالر کپ، اسلام آباد راونڈ میں233 میڈلز بشمول100 سے زائد گولڈ میڈلز جیت لیے:حالیہ ورلڈ سکالر کپ، اسلام آباد میں سپر نووا سکول نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 233 میڈلز بشمول 100 سے زائد گولڈ میڈلز جیت کر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے-لڑکیوں نے 95 جبکہ لڑکوں نے 138 میڈلز جیتے۔ دو دن کی تھکا دینے والی سرگرمیوں میں طلبا نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا ، جن میں تقاریر، اشتراکی تخلیقی لکھائی، ٹیلنٹ شو، یہ سب کے سکالر کپ ایونٹ کا موضوع تھیں۔ زیادہ سرگرمیاں گروہ کی شکل میں ہوئیں۔ اسلام آباد راونڈ میں ہونے والے مقابلوں میںسکولوں کے طلبا نے حصہ لیا، جو کہ سکالر کپ کی تاریخ میں پہلا اتنا بڑا مقابلہ تھا۔ان مقابلوں میں طلباء خاص طور پر ٹیم ورک سیکھااور اس سے بہت ساری معلومات حاصل کیں۔ اور ان مضامین میں بھی جو عالمی سطح پر ان کیلئے مفید ثابت ہوں گے۔یہ وہ فوائدہیں جو واضح نظر نہیں آتے، لیکن جب بچے گھر واپس آتے ہیں تو ان کی گردنوں میں تمغوں کی جھنکار سے والدین کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ در حقیقت، لوگوں میں بات کرنے کی ہچکچاہٹ یا خوف ختم ہو جاتا ہے اور انکی خود اعتمادی میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔باصلاحیت نگرانوں کی رہنمائی میں سپر نوا نے پہلی دس پوزیشنز میں سے چھ پوزیشنز حاصل کیں۔ علاوہ ازیں جونئیر سیکشن کی تقریری اور تحریری مقابلوں میں اپنے حریفوں میں دوسری پوزیشن حاصل کی،
گزشتہ سال 2017 میں سوپر نوا سکول نے اسلام آباد راؤنڈ جیتا، پھر گلوبل روانڈ جنوبی افریقہ جیتا اور پھر Yale یونیورسٹی میں جا کر پاکستان کا نام روشن کیا تھا۔ گزشتہ سال کی یہ کامیابی اس سال طلبا کو جیت کا جذبہ دلانے میں کارگر ثابت ہوئی۔
61 سوپر نووینز جو کہ 21 ٹیموں پے مشتمل تھے گلوبل رانڈ بارسلونا، میں پہنچ گئے ہیں،،سپر نووا سکول کے طلبا کے لئے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا، انکی زندگی کا معیار ہے جس سے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے علمی شعبدے خوبصورتی سے سامنے آتے ہیں۔مشترکہ تحریر نویسی میں سینئر سیکشن نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ علاوہ ازیں نویں جماعت کے طالب غوث کو تمام حریفوں میں دوسرے نمبر پر بہترین قرار دیا گیا۔روزان فاطمہ کو بہترین مقرر قرار دیا گیا۔ اپنی بہترین کار کردگی اور صلاحیتوں کی وجہ سے منتخب ہوئی ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ہونہار طلبا پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں